نئی دہلی،27/جون (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) بہار میں چمکی بخار سے مرنے والوں کی تعداد 150 ہو گئی ہے۔اس درمیان جمعرات کو دہلی میں مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کے گھر کے باہر کانگریس کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔اس دوران یوتھ کانگریس کے کارکنوں کو روکنے پہنچی دہلی پولیس سے ان کاٹکراؤہوگیا۔پولیس نے تمام کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔بتا دیں کہ چمکی بخار سے سب سے زیادہ متاثرہ مظفر پور ہوا ہے۔اکیلے یہاں پر 132 بچوں کی موت ہوئی ہے۔مظفر پور میڈیکل کالج میں 111 اورکجریوال ہاسپٹل میں 21 بچوں کی موت ہوئی ہے۔مسلسل اموات سے اپوزیشن مرکزی اور ریاستی حکومت پر حملہ آور ہے۔اسی کڑی میں جمعرات کو کانگریس کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔چمکی بخار کو لے کر جمعرات کو اچھی خبر آئی۔جان لیوا بیماری سے اموات کا سلسلہ اب تھم گیا ہے۔بارش کے بعد مظفر پور میڈیکل کالج اور کجریوال ہاسپٹل میں چمکی بخار سے متاثرین کی آمد بھی کم ہو گئی ہے،اگرچہ اب بھی محکمہ صحت الرٹ پر ہے۔ریاست اور مرکزی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی ٹیمیں حالات پر نظر بنائے ہوئے ہیں۔اپوزیشن کے علاوہ بچوں کی اموات پر سپریم کورٹ نے بھی سخت رخ اپنایا ہے۔کورٹ نے مرکزی حکومت اور بہار حکومت سے اس بیمار پر جواب مانگا ہے۔کورٹ نے حکومتوں سے تین مسئلے پر حلف نامہ دائر کرنے کو کہا ہے، جس ممیں ہیلتھ سروس، نیوٹرشن اور ہاجن کا معاملہ ہے۔عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ یہ بنیادی حق ہیں، جنہیں ملنا ہی چاہئے۔